Sunday, 10 July 2016

ایک رات کی نماز

حضرت احمدخضرویہ ایران کے شہر خُراسان کے رہنے والے تھے اور اپنے وقت کے ولی سمجھے جاتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رات کے وقت ایک چور اُن کے مکان میں گُھس آیا۔ وہ بڑی دیر تک اِدھراُدھر پھر کر گھر کی تلاشی لیتا رہا لیکن اُسے کوئی چیز نہ ملی۔
حضرت احمد جاگ رہے تھے۔ وہ چُپ چاپ چور کو اپنے مکان میں پِھرتے دیکھتے رہے مگر زبان سے کچھ نہ کہا۔جب وہ چور نا اُمید ہو کر واپس جانے لگاتواٰنھوں نے آوازدی:
"اے جوان، ڈول اُٹھا اور پانی نکال۔ پھر وُضو کرکے نماز پڑھ۔جب کوئی چیز آۓ گی تو ہم تجھے دے دیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ تُو ہمارے گھر سے خالی ہاتھ جاۓ۔"
چور نے جب یہ آوازسُنی تو گھبرا سا گیا۔ پھر سوچنے لگا کہ مکان کے مالک کو میرا پتاچل ہی گیا ہے۔ مجھے اِس کا کہنا مان لینا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اِنکار کرنے پر وہ مجھے پکڑ کرکوتوال کے حوالے کر دے۔یہ سوچ کر اُس نے ڈول اُٹھایا، کُنویں سے پانی نکال کر وُضو کیا اورپھر نماز پڑھنے لگا۔
صبح ہوئی تو ایک شخص حضرت احمد کی خدمت میں حاضر ہُوا اور ایک سو دِینار پیش کیے۔ حضرت احمد نے چور کو اپنے پاس بُلایا اور اُسے وہ دِینار دے کر کہا:
"اے جوان، یہ لے۔ یہ تیری ایک رات کی نماز کا بدلہ ہے۔"
یہ سُن کر چور کا سارا جسم کانپنے لگا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گۓ۔ وہ روتے ہوۓ کہنے لگا:
"افسوس کہ اب تک میں غلط راستے پر چلتا اوربُرے کام کرتا رہا۔ میں نے صرف ایک رات خُدا کی عبادت کی اوراُس نے میرےحال پر ایسا کرم کیا کہ ایک سو دِیناربھجوادیے۔اگر ساری زندگی اُس کے بتاۓ ہوۓ راستے پر چلوں تو نہ معلوم وہ میرے حال پر کیسی کیسی مہربانی کرے۔"
یہ کہہ کراُس نے اُسی وقت بُرے کاموں سےتوبہ کی اور حضرت احمد کے مُریدوں میں شامل ہو کر دن رات خُدا کی عبادت کرنے لگا۔

No comments:
Write comments

Theme images by MichaelJay. Powered by Blogger.

Cultural alternatives and cultural specialties

There are many different ways to do the same. For example, create a universal aspect of culture for a patient; but the way people vary pat...

Labels

Follow by Email